Azmat Ali Khan, a close aide of eminent scientist, Dr. Salimuzzaman Siddiqui and the founding father of Bazme Sciecny Adab was remembered in a recently held literary gathering, at the Arts Council of Pakistan Karachi.

It was in fact organised to launch Etiraaf-e-Azmat, a book containing writings about his works.

A number of famous writers, poets and journalists paid glowing tribute to the late promoter of science-literature in Urdu.

The literary function was presided over by Dr. Muhammad Qaiser, the Vice Chancellor of Karachi University, while a large number of people from various walks of life attended the very programme.

Chief Editor,

Live Rostrum

عظمت علی خان کی یاد میں شائع ہونے والی کتاب اعترافِ عظمت کی تقریبِ پذیرائی

Tasweeri JhalkiyaaN-SASرُوداد : آمنہ عالم
کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں ایک انجمن اور اپنے کام میں ایک پورا ادارہ ہوتے ہیں۔ بزمِ سائنسی ادب کے بانی عظمت علی خان بھی ایک ایسی شخصیت تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان سے تعلق رکھنے والی بہت سی شخصیات نے اپنے اپنے زاویۂ نگاہ سے ان کی شخصیت پر روشنی ڈالی۔ نظم و نثر پر مبنی ان تمام تحریروں کو بزمِ سائنسی ادب کے قابوس سے ’’اعترافِ عظمت‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔ اکتوبر کا مہینہ عظمت صاحب کی برسی لے کر آتا ہے، اس لیے مہینے کے آخری ہفتے،حسب روایت، منعقدہونے والی نشست اس کتاب کی تقریبِ پذیرائی کے لیے مختص کی گئی۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے موجودہ صدر پروفیسر اعجاز احمد فاروقی نے اس تقریبِ پذیرائی کو آرٹس کونسل کے منظر اکبر ہال میں۳۱؍اکتوبرکو منعقد کروانے کا اہتمام کیا۔

READ  Swiss CG visited Grandeur Art Gallery

نشست کی صدارت کے منصب پرشیخ الجامعہ کراچی جناب ڈاکٹر محمد قیصر صاحب تشریف فرما ہوئے ، جبکہ نظامت ڈاکٹر زاہدہ مقصود نے کی۔ حافظ محمد نعمان طاہر نے اپنی خوش الحان تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا اورپھرحاضرین کو اس کے ترجمے سے مستفیض کیا جس کے بعد عظمت صاحب کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔اس موقع پرمعروف شاعر جناب یونس رمزؔ نے تلاوت کردہ آیات کی منظوم ترجمانی فرمائی۔

ممتازشاعرہ ڈاکٹر نزہت عباسی نے ’’اعترافِ عظمت‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی ادب کو ہمارے نصاب کا حصہ بننا چاہیے اور شیخ الجامعہ کراچی کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔نامورصحافی اور شعبہ ابلاغِ عامہ ،جامعہ کراچی کے سابق چیئرمین طاہر مسعود صاحب نے کہا کہ عظمت صاحب کا مشن سائنسی شعور سے عاری اس معاشرے میں سائنس کی اہمیت کا احساس اجاگرکرنا تھا۔

بزرگ شاعرونقاد پروفیسر سحر انصاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ عظمت علی خان اپنے کارناموں کے باعث اپنے رفقاء کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ مقدس دیوانگی کا ایسا مثالی نمونہ تھے جو اب شاید ہی کبھی ہمارے معاشرے میں نظر آئے۔
صحافت اور ادب کے شعبوں میں یکساں شہرت کے حامل،روزنامہ جناح کے چیف ایڈیٹر جناب محمود شام نے کہا کہ ہم جذباتی قوم ہیں۔ ایسے جذباتی لوگوں کو عظمت صاحب سائنس کی طرف راغب کرنے میں لگے رہے۔ خوشی کی بات ہے کہ ان کے ساتھیوں نے ان کی مشعل کو روشن رکھا ہوا ہے۔

معروف ادبی وسماجی شخصیت جناب اظہر عباس ہاشمی نے کہا کہ میں مولانا(عظمت صاحب) کا شاگرد بھی رہا، ماتحت بھی لیکن پھر میں ان کا دوست بن گیا اور ہمارے درمیان یہ رشتہ آخر دم تک رہا۔ عظمت صاحب کی شخصیت سورج کی طرح تھی، ہم خوش نصیب تھے کہ قحط الرجال میں ہم نے بہت سے سورج دیکھے۔ ضرورت ہے کہ ان کا کام جاری رکھا جائے، اس سلسلے میں اس بزم کی مالی معاونت بھی اہم کام ہوگی، کیونکہ کوئی ادارہ مالی استحکام کے بغیر کام نہیں کرسکتا۔

READ  Shershah Syed: Where lies the Pursuit of Knowledge?

اس نشست میں شریک شعرائے کرام محترم سعید الکبیر، پروفیسر نعیم علی خان گوہر، جناب ظفر محمد خان ظفرؔ نے منظوم خراجِ عقیدت، جبکہ آمنہ عالم نے بزم کا ترانہ ’’یہ بزم سدا گائے گی عظمت کا ترانہ‘‘ پیش کیا۔

شیخ الجامعہ کراچی ڈاکٹر محمد قیصر نے اپنے صدارتی خطبے میں عظمت علی خان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ بزم کے لیے ہر ممکن تعاون کرتے رہیں گے اور گاہے گاہے اس کی نشستوں میں بھی شرکت کریں گے۔

اس موقع پربزم کے معتمد عمومی سردار احمد نازش نے تمام معزز مہمانوں اورمدعوئین کو ’’اعترافِ عظمت‘‘ کی اعزازی کاپیاں پیش کیں۔

بزم کے اراکین و مجلس عاملہ کی طرف سے پروفیسر شاہین حبیب، سردار احمد نازش اور ڈاکٹر سمیع الزماں صاحب کو کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں ان کی خدمات پر اعتراف کے طور پر ’’لوحِ اعزاز‘‘ پیش کی گئی جو علی الترتیب پروفیسرحمید اللہ افسر، پروفیسر بدرالدجیٰ اور ڈاکٹر وقار احمد زبیری نے پیش کیں۔

آخر میں ڈاکٹر سمیع الزماں نے کلماتِ تشکر ادا کیے اورساتھ ہی عظمت صاحب سے اپنے قدیم روابط و تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سلیم الزماں سائنس سینٹر کو فی الواقع سائنس سینٹر بنانے کے لیے، کراچی کے اہلِ علم و دانش کو کام کرنا چاہیے۔یوں یہ پروقار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ حاضرین میں شہر کی بہت سی نامور علمی و ادبی شخصیات شامل تھیں۔

Sohail Ahmed Siddiqui
Poet, Writer, Journalist, Broadcaster and TV Host Sohail Ahmed Siddiqui had served various organisations in different fields. He has got approximately 700 published writings (Urdu/English) and a few books to his credit. Currently, he is the Chief Editor, Live Rostrum.

Leave a Reply

Be the First to Comment!

Notify of
avatar
 
smilegrinwinkmrgreenneutraltwistedarrowshockunamusedcooleviloopsrazzrollcryeeklolmadsadexclamationquestionideahmmbegwhewchucklesillyenvyshutmouth
Photo and Image Files
 
 
 
Audio and Video Files
 
 
 
Other File Types